اٹاوہ گھرانا، جسے امداد خانی گھرانا بھی کہا جاتا ہے، ستار اور سربہار نوازی کا ایک شمالی ہندوستانی گھرانا ہے جو انیسویں صدی میں امداد خان کے گرد تشکیل پایا۔ اس کا پہلا نام آگرہ کے قریب واقع قصبے اٹاوہ سے آیا ہے، جہاں یہ خاندان رہتا تھا، اور دوسرا امداد خان سے۔ آج فنکاروں کے تعارف دونوں ناموں کو ملا کر امداد خانی (اٹاوہ) گھرانا لکھتے ہیں۔

اس کے بانی کے بارے میں بیانات مختلف ہیں۔ خاندانی بیانات امداد خان سے ایک نسل پہلے، ان کے والد اور پہلے گرو صاحب داد خان سے شروع ہوتے ہیں، جو گلوکار تھے اور ستار یا سربہار بھی بجاتے تھے۔ یہی بیانات صاحب داد خان کو گوالیار کے حدو خان اور حسو خان سے جوڑتے ہیں اور انہیں سربہار کا موجد بتاتے ہیں، اور دوسرے بیانات اس دعوے سے اختلاف کرتے ہیں۔ ایک بیان کی داستان کے مطابق وہ صاحب سنگھ کے نام سے ایک ہندو کے طور پر پیدا ہوئے اور بعد میں مسلمان ہوئے۔ کئی ماخذ امداد خان کو 1904 میں گراموفون ریکارڈنگ کرنے والا پہلا ستار نواز بتاتے ہیں۔

خاندان اور تدریسی ویب سائٹیں امداد خان کے ستار کے انداز کو خیال گائکی پر مبنی بتاتی ہیں، جو اس دھرپد پر مبنی سینیا انداز سے الگ راہ تھی جو ان کی صدی میں سازوں کی موسیقی پر حاوی تھا۔ یہی انتخاب آگے چل کر گائکی انگ بنا، یعنی بجانے کا ایسا طریقہ جو آواز کے اتار چڑھاؤ کی پیروی کرتا ہے۔ 2004 کے اخباری تعزیتی مضامین اس کا سہرا ولایت خان کو دیتے ہیں۔ وحید خان کی شاخ کی خاندانی ویب سائٹ اسے مزید ترقی دینے کا سہرا عنایت خان کو دیتی ہے۔ یہی سائٹ کہتی ہے کہ ولایت خان نے اپنے والد اور چچا کے مینڈ (سُروں کے درمیان پھسلن) اور مرکی (آرائشی گھماؤ) کے برتاؤ کو نکھارا۔

امداد خان نے اپنے بیٹوں عنایت خان کو ستار اور وحید خان کو سربہار سکھایا، اور یہ سلسلہ دو شاخوں میں بٹ گیا۔ عنایت خان (1894-1938) خاندان کا مرکز کلکتہ لے گئے۔ ان کے بیٹے ولایت خان (1928-2004) نے پہلے انہی سے سیکھا، اور عنایت خان کی جلد وفات کے بعد اپنی والدہ بشیرن بیگم سے، ان کے والد گلوکار بندے حسن خان سے، اور اپنے ماموں زندہ خان سے۔ ولایت خان کے چھوٹے بھائی امرت خان (1935-2018) نے اپنی والدہ اور نانا سے، اور بعد میں اپنے چچا وحید خان سے سیکھا۔ دوسری شاخ وحید خان سے چلتی ہے، جنہوں نے ستیہ جیت رے کی فلم جلسہ گھر (1958) میں سربہار بجایا۔ ان کے بیٹے عزیز خان نے یہ سلسلہ اپنے بیٹے شاہد پرویز کو سونپا۔ شاہد پرویز نے اپنے بیٹے شاکر خان کو تربیت دی، جنہیں سنگیت ناٹک اکادمی کا استاد بسم اللہ خان یووا پرسکار 2019 کے لیے ملا، جو 2023 میں پیش کیا گیا۔ خاندان سے باہر یہ انداز عنایت خان کے شاگرد بملیندو مکھرجی اور ان کے بیٹے بدھادتیہ مکھرجی تک پہنچا۔

اہم فنکار

  • صاحب داد خان، گلوکار اور ستار یا سربہار نواز، انیسویں صدی، خاندانی بیانات میں بانی
  • امداد خان، ستار اور سربہار، انیسویں صدی کا آخر اور بیسویں صدی کا آغاز، جن کے نام پر گھرانے کا نام ہے
  • عنایت خان، ستار اور سربہار، 1894-1938، کلکتہ شاخ
  • وحید خان، سربہار اور ستار، امداد خان کے بیٹے، دوسری شاخ کے سربراہ
  • ولایت خان، ستار، 1928-2004، کلکتہ شاخ
  • امرت خان، سربہار اور ستار، 1935-2018
  • شاہد پرویز، ستار، وحید خان شاخ کی موجودہ نسل
  • شاکر خان، ستار، شاہد پرویز کے بیٹے اور شاگرد
  • بدھادتیہ مکھرجی، ستار، خاندان سے باہر کی موجودہ نسل

ماخذ

  • Darbar Arts Culture Heritage Trust، ولایت خان، امرت خان، شاہد پرویز اور بدھادتیہ مکھرجی کے سوانحی تعارف
  • Rediff News، ولایت خان پر تعزیتی مضمون (2004)
  • Varinder Singh, The Tribune (India), Sammelan loses star guest (2004)
  • Outlook (India)، امرت خان پر تعزیتی مضمون (2018)
  • شاہد پرویز کی سرکاری ویب سائٹ، اٹاوہ گھرانے کے سلسلے کا صفحہ
  • امرت خان کی خاندانی شاخ کا ورثہ صفحہ (MusicalBeats)