گوالیار گھرانا ہندوستانی کلاسیکی موسیقی میں خیال گائکی کا ایک گھرانا ہے، جس کا نام دیسی ریاست گوالیار سے آیا ہے، جہاں اس نے اٹھارویں صدی کے آخر اور انیسویں صدی میں سندھیا دربار میں شکل پائی۔ بونی سی ویڈ اور دوسرے مصنفین کے مطابق یہ خیال کے گھرانوں میں سب سے پرانا ہے۔ دہلی گھرانے کا خاندان دعویٰ کرتا ہے کہ یہ مقام اس کے اپنے سلسلے کا ہے۔ خیال سے پہلے گوالیار راجا مان سنگھ تومر (عہدِ حکومت 1486 تا 1516) کے زمانے میں دھرپد کا مرکز تھا۔

دولت راؤ سندھیا (عہدِ حکومت 1794 تا 1827) ایک اہم سرپرست تھے۔ ایک بیان کے مطابق وہ گوالیار کا ایک الگ انداز چاہتے تھے، اور یہی بیان اسے لشکری خیال کہتا ہے۔ کئی ماخذ نتھن پیر بخش کو بانی مانتے ہیں۔ نتھن پیر بخش کے پوتوں یا نواسوں، حدو خان اور حسو خان، نے اپنے رشتہ دار نتھو خان کے ساتھ اس انداز کو ڈھالا۔ دوسرے بیانات ان دونوں بھائیوں کو بانی کہتے ہیں۔ گھرانے میں سنائی جانے والی ایک کہانی کے مطابق دونوں بھائی حریف گلوکار بڑے محمد خان کی تانیں سیکھنے کے لیے مہاراجا کے تخت کے نیچے چھپ گئے تھے۔ یہ کہانی داستان ہے، اور ماخذ اس پر متفق نہیں کہ بڑے محمد خان گوالیار کب پہنچے۔

گوالیار کا طریقہ اشٹانگ گائکی کہلاتا ہے، یعنی آٹھ عناصر پر بنی گائکی، اور ماخذ اس پر متفق نہیں کہ وہ آٹھ کون سے ہیں۔ بندش، یعنی مقررہ تصنیف، پوری پیشکش پر حاوی رہتی ہے: گلوکار اس کے دونوں حصے، استھائی اور انترا، پیش کرتا ہے اور اسی کی ساخت سے راگ کھڑا کرتا ہے۔ آواز تینوں سپتکوں میں کھلی اور بھرپور رہتی ہے، اور آلاپ، یعنی بغیر تال کی ابتدائی تفصیل، مختصر رہتا ہے۔ گلوکار کئی قسم کی تانیں لیتے ہیں، یعنی سُروں کی تیز دوڑ، جن میں گمک، یعنی بھاری لرزش، کے ساتھ گائی جانے والی سپاٹ تانیں اور تینوں سپتکوں پر پھیلی تانیں شامل ہیں۔ کئی بیانات ٹپا کو اس کے ذخیرے میں شامل کرتے ہیں، اور گوالیار کا پنڈت خاندان ٹپ خیال اور بندشی ٹھمری کا اضافہ کرتا ہے۔

یہ گھرانا ایک مسلم خاندانی سلسلے میں نتھن پیر بخش سے نثار حسین خان تک پہنچا، اور ان ہندو سلسلوں میں بھی جو گوالیار اور مہاراشٹر کے شاگردوں سے شروع ہوئے۔ دوسرے گھرانوں نے اس سے استفادہ کیا: آگرہ گھرانے کے گھگے خدا بخش نے نتھن پیر بخش سے تعلیم پائی، اور رام پور-سہسوان کے عنایت حسین خان نے، ان کے خاندان کے بیان کے مطابق، حدو خان کی بیٹی سے شادی کی۔ نتھو خان کے لے پالک بیٹے نثار حسین خان 1886 سے 1916 میں اپنی وفات تک پنڈت خاندان کے ساتھ رہے اور شنکر پنڈت کو سکھایا۔ شنکر پنڈت کے بیٹے کرشن راؤ شنکر پنڈت نے 1914 میں گوالیار میں شنکر گندھرو ودیالیہ قائم کیا۔ مہاراشٹر میں بال کرشن بوا اچل کرنجیکر نے یہ انداز پھیلایا، اور ان کے شاگرد وشنو دگمبر پلسکر نے 1901 میں لاہور میں گندھرو مہاودیالیہ قائم کیا۔

اہم فنکار

  • نتھن پیر بخش، جنہیں بانی مانا جاتا ہے، اٹھارویں صدی کا آخر سے انیسویں صدی کا آغاز
  • حدو خان، نتھن پیر بخش کے پوتے یا نواسے، وفات 1883
  • حسو خان، نتھن پیر بخش کے پوتے یا نواسے اور حدو خان کے بھائی
  • نثار حسین خان، نتھو خان کے لے پالک بیٹے اور پنڈت خاندان کے گرو، وفات 1916
  • بال کرشن بوا اچل کرنجیکر، گھرانے کی مہاراشٹر شاخ کے بانی
  • وشنو دگمبر پلسکر، بال کرشن بوا اچل کرنجیکر کے شاگرد، 1872 تا 1931
  • کرشن راؤ شنکر پنڈت، گوالیار میں شنکر گندھرو ودیالیہ کے بانی، وفات 1989
  • مالنی راجورکر، گلوکار، اسی گھرانے سے

ماخذ

  • Mukund Lath, What is Khyal? A Critique of Wade's Khyal, NCPA Quarterly Journal (1988)
  • Amar Farooqui, Mihirakula to Marathas to Madhya Pradesh: The Brief History of Gwalior, Sahapedia
  • Samrat Bhattacharjee, Gharana and its Colour of Ornamentation, Naad-Nartan Journal of Dance and Music (2025)
  • Amrita Sarkhel, Development and characteristics of Agra-Atrauli Gharana of Khayal, Naad-Nartan Journal of Dance and Music (2020)
  • Meeta Pandit, Gwalior's Musical Heritage, Sahapedia
  • Aneesh Pradhan، Scroll کے کالم، کرشن راؤ شنکر پنڈت پر (2014) اور گندھرو مہاودیالیہ پر (2018)