لکھنؤ گھرانا کتھک رقص کا ایک گھرانا ہے جس نے انیسویں صدی کے وسط میں اودھ کے آخری نواب واجد علی شاہ کی سرپرستی میں لکھنؤ میں اپنی درباری شکل پائی۔ کاتاژینا سکیبا کے مطابق یہ جے پور اور بنارس کے ساتھ کتھک کے تین بڑے گھرانوں میں سے ایک ہے۔ اسے دو بھائیوں، بندادین مہاراج اور کالکا پرساد، کے نام پر کالکا-بندادین گھرانا بھی کہا جاتا ہے، جنہیں خاندانی اور عام بیانات نواب کے دربار سے وابستہ بتاتے ہیں۔ سکیبا کے بیان کے مطابق مارگریٹ واکر کو معلوم ہوا کہ نواب کے درباری رقاص بھگت کہلاتے تھے اور نواب کی کتابوں میں نہ کتھک برادری کا نام ہے نہ ان اجداد کا۔
خاندانی روایت، جو برجو مہاراج کے ادارے کلاشرم نے شائع کی، اس سلسلے کو ایشوری پرساد تک لے جاتی ہے، جن کا تعلق پریاگ راج (الہ آباد) کے قریب ہنڈیا کے ایک برہمن خاندان سے تھا اور جنہیں کرشن نے خواب میں کتھک کو پھر سے قائم کرنے کا حکم دیا۔ برجو مہاراج نے سکیبا کو بتایا کہ ان کے اجداد الہ آباد کے قریب کچی کیلا گاؤں سے آئے تھے۔ کئی نسلوں بعد خاندانی بیان درگا پرساد کو دونوں بھائیوں کا والد اور ٹھاکر پرساد کو ان کا چچا بتاتا ہے۔ کوکب قدر اور سجاد علی مرزا کی لکھی واجد علی شاہ کی ایک سوانح انہیں ٹھاکر پرساد کے بیٹے کہتی ہے۔ دونوں بیانات ٹھاکر پرساد کو نواب کا رقص کا معلم بتاتے ہیں، اگرچہ یہ سوانح لکھتی ہے کہ بادشاہ کی اپنی تحریروں میں نہ ان کے معلم کا نام ہے نہ کتھک کا۔
سکیبا کے مطابق لکھنؤ کے اساتذہ بھاؤ کو، یعنی اشاروں اور اداکاری سے ظاہر ہونے والے احساس کو، زیادہ اہمیت دیتے ہیں، جبکہ جے پور کے رقاص رفتار اور پاؤں کے کام پر زور دیتے ہیں۔ لکھنؤ کے رقاص ٹھمری اور غزل کی بڑھت کرتے ہیں اور گیت کے بولوں پر فی البدیہہ اظہار کرتے ہیں، اور پورنما شاہ کے مطابق یہ روایت اٹھارویں اور انیسویں صدی کے لکھنؤ کے کتھک رقاصوں اور طوائفوں سے چلی آتی ہے۔ سنیل کوٹھاری کے مطابق نزاکت اور خوبصورتی کا رشتہ لکھنؤ کی تہذیب سے ہے۔ لباس مسلم اور فارسی پوشاک سے متاثر ہے، جس میں چوڑی دار پاجامے پر انگرکھا پہنا جاتا ہے۔ طبلہ نواز اور مؤرخ انیش پردھان کے خیال میں لکھنؤ میں کتھک کی مقبولیت شاید اس شہر کے طبلہ گھرانے کے کھلے، یعنی کھلا، باج کے آغاز کی نشانی ہو۔
کالکا پرساد کے بیٹے اچھن، لچھو اور شمبھو مہاراج یہ سلسلہ بیسویں صدی میں لے آئے۔ واکر کے مطابق 1930 کی دہائی کے وسط سے نرملا جوشی کے دہلی کے اداروں نے موروثی کتھک معلم بھرتی کیے، اور رقص پر اختیار لکھنؤ اور جے پور سے دارالحکومت منتقل ہو گیا۔ اچھن کے بیٹے برجو مہاراج نے پہلے اپنے والد سے اور پھر اپنے دونوں چچاؤں سے تربیت پائی۔ 2010 میں واکر نے انہیں لکھنؤ انداز کی موجودہ سند کہا۔ وہ دہلی میں کتھک کیندر کے سربراہ رہے اور 1998 میں وہیں کلاشرم قائم کیا۔
اہم فنکار
- ٹھاکر پرساد، انیسویں صدی، واجد علی شاہ کے رقص کے معلم کے طور پر مذکور؛ خاندانی بیان میں بندادین مہاراج اور کالکا پرساد کے چچا، دوسرے بیانات میں ان کے والد
- درگا پرساد، انیسویں صدی، خاندانی بیان میں بندادین مہاراج اور کالکا پرساد کے والد
- بندادین مہاراج، لکھنؤ آبزرور کے مطابق 1830 تا 1918، کالکا-بندادین سلسلے کے شریک بانی اور ٹھمری کے بندش ساز
- کالکا پرساد، انیسویں صدی، کالکا-بندادین سلسلے کے شریک بانی اور اچھن، لچھو اور شمبھو مہاراج کے والد
- اچھن مہاراج، کالکا پرساد کے بیٹے، برجو مہاراج کے والد اور گرو
- لچھو مہاراج، 1901 تا 1978، لکھنؤ کے کتھک کیندر کے بانی ڈائریکٹر اور برجو مہاراج کے گرو
- شمبھو مہاراج، وفات 1970، 1955 سے دہلی میں معلم اور برجو مہاراج کے گرو
- برجو مہاراج، 1938 تا 2022، لکھنؤ انداز کی سند اور کلاشرم کے بانی
ماخذ
- Katarzyna Skiba, Cultural Geography of Kathak Dance: Streams of Tradition and Global Flows, Cracow Indological Studies 18 (2016)
- Margaret Walker, Revival and Reinvention in India's Kathak Dance, MUSICultures 37 (2010)
- Purnima Shah, Performance of Thumri in Kathak Dance, Asian Theatre Journal 40 (2023)
- Ashish Mohan Khokar, Shambhu Maharaj, Sahapedia
- Sunil Kothari, Early memories of encounters with Birju Maharaj, Narthaki (2020)
- Kalashram، برجو مہاراج کی سوانح (خاندانی بیان)