پنجاب گھرانا، جسے Panjab گھرانا بھی لکھا جاتا ہے، طبلہ نوازی کا ایک گھرانا ہے جو پنجاب کے خطے میں پکھاوج نوازی سے نکلا، اور بعض بیانات اس کی طبلے والی شکل کو انیسویں صدی کا بتاتے ہیں۔ طبلے کے مؤرخ اسے دہلی، اجراڑہ، لکھنؤ، فرخ آباد اور بنارس کے ساتھ طبلے کے چھ بڑے گھرانوں میں گنتے ہیں۔ اس کا بڑا مرکز لاہور تھا، جہاں اس نے باقی پانچ سے الگ اپنی شناخت قائم رکھی۔

طبلے کے مؤرخ انیش پردھان اور ہندوستان کی این سی ای آر ٹی کی طبلہ اور پکھاوج کی نصابی کتاب، دونوں کے مطابق بانی پکھاوج نواز لالہ بھوانی داس ہیں۔ پردھان کی تحریر ابان مستری کی یہ رائے نقل کرتی ہے کہ بھوانی داس، بھوانی دین اور بھوانی سنگھ (جنہیں Bhawani بھی لکھا جاتا ہے) ایک ہی شخص ہیں۔ این سی پی اے کے لیے جسدیپ سنگھ کی تحریر کے مطابق مستری کی رائے میں اٹھارویں صدی کے بھوانی داس اور انیسویں صدی کے بھوانی سنگھ دو الگ شخص ہیں۔ کئی بیانات میاں قادر بخش اول کو بھوانی داس کا شاگرد بتاتے ہیں، اور سنگھ کے مطابق ان کی اولاد نے گھرانا قائم کیا۔ سنگھ کی تحریر ان کا زمانہ 1700 کے آس پاس رکھتی ہے؛ ڈجی طبلہ، گوٹلیب کی تاریخوں کی بنیاد پر، 1810 کے آس پاس پیدا ہونے والے قادر (Kader) بخش کو اس سلسلے کو طبلے تک لانے والا بتاتا ہے۔ چند بیانات صرف قادر بخش کو بانی کہتے ہیں۔ دی ٹریبیون ایک عقیدے کا ذکر کرتا ہے کہ یہ سلسلہ سکھ گرو ارجن دیو کے ساتھ جوڑی پکھاوج کی روایت کے طور پر شروع ہوا، اور سنگھ کی تحریر اس عقیدے کو رد کرتی ہے۔ ہم نے جن ماخذ کو دیکھا ان میں سے کوئی آغاز کی دستاویزی تاریخ نہیں دیتا۔

سازوں میں پکھاوج کی جڑیں نظر آتی ہیں۔ ابتدائی طبلہ نواز گیہوں کے آٹے کے لیپ والا لکڑی کا ایک بھاری آواز والا ڈھول، دکڑ، استعمال کرتے تھے، اور اسے جوڑی کہلانے والے جوڑے میں بجاتے تھے۔ پنجاب کے طبلہ نواز آڑی لے، لے کاری، یعنی ماترا کی تقسیم کے ساتھ لے کا کھیل، اور کم عام تالیں، یعنی لے کے دور، پسند کرتے ہیں، جن میں 15 ماتراؤں کی پنچم سواری، دھمار اور شول تال شامل ہیں۔ ان کا ذخیرہ پیشکار اور قاعدے سے زیادہ لمبی گتوں، ریلوں اور پرنوں پر ٹکا ہے، اگرچہ یہ توازن ہر سلسلے میں الگ ہے۔

میاں قادر بخش اول، بیسویں صدی کے معلم میاں قادر بخش دوم سے الگ شخص ہیں۔ علی عدنان کے مطابق شوکت حسین خان نے دہلی سلسلے کے ہیرا لال سے اور پھر میاں قادر بخش دوم سے سیکھا، 43 برس لاہور میں ریڈیو پاکستان سے وابستہ رہے اور طاری خان کو سکھایا۔ 1947 میں تقسیم کے بعد یہ ذخیرہ ہندوستان اور پاکستان میں بٹ گیا۔ اللہ رکھا روی شنکر کے سنگت کار کی حیثیت سے یہ انداز بین الاقوامی سامعین تک لے گئے۔ ان کے بیٹے اور شاگرد ذاکر حسین نے یہ سلسلہ آگے بڑھایا، اور ہندوستان کے کئی سلسلوں میں ان کا سلسلہ سب سے معروف ہے۔ ایک اور سلسلہ فیروز خان سے چلتا ہے، جنہوں نے کولکاتا میں گیان پرکاش گھوش کو پنجاب کی بندشیں منتقل کیں۔

اہم فنکار

  • لالہ بھوانی داس (بھوانی دین، بھوانی سنگھ بھی)، پکھاوج نواز جنہیں بانی کہا جاتا ہے
  • میاں قادر بخش اول، بھوانی داس کے شاگرد، جسدیپ سنگھ کے مطابق تقریباً 1700 اور ڈجی طبلہ کے مطابق تقریباً 1810
  • میاں قادر بخش دوم، بیسویں صدی کے معلم، اللہ رکھا اور شوکت حسین خان کے گرو
  • فیروز خان، بندش ساز جنہوں نے کولکاتا میں گیان پرکاش گھوش کو پنجاب کی بندشیں منتقل کیں
  • اللہ رکھا، سولو نواز اور روی شنکر کے سنگت کار
  • شوکت حسین خان، لاہور کے سولو نواز اور 43 برس ریڈیو پاکستان کے اسٹاف آرٹسٹ
  • ذاکر حسین، اللہ رکھا کے بیٹے اور شاگرد
  • طاری خان، لاہور سے، شوکت حسین خان کے شاگرد

ماخذ

  • Aneesh Pradhan، Scroll میں کالم، پنجاب گھرانے پر (2016) اور بھوانی داس کی پکھاوج روایت پر (2019)
  • NCERT, Sangeet: Tabla evam Pakhawaj, Class 11, chapter 8 (2021)
  • Jasdeep Singh، پنجاب گھرانے پر مضمون، NCPA ON Stage (دسمبر 2020)
  • Krishnaraj Iyengar, The enigmatic ustad from Punjab, The Tribune (2019)
  • Ally Adnan, The Ustad of Ustaads, The Friday Times (2015)
  • DigiTabla, Six gharanas