سینیا-میہر گھرانا سرود کا وہ سلسلہ ہے، جو ہندوستانی سازوں کی موسیقی کا حصہ ہے اور جس کی بنیاد علاؤالدین خان نے بیسویں صدی کے آغاز میں سابق دیسی ریاست میہر میں رکھی۔ زیادہ تر ماخذ اسے اور میہر گھرانے کو ایک ہی گھرانا مانتے ہیں جو کئی سازوں پر پھیلا ہوا ہے۔ علاؤالدین خان کئی ساز بجاتے اور سکھاتے تھے، مگر اپنی عوامی محفلیں سرود پر کرتے تھے۔ “سینیا” سے مراد تان سین کا سلسلہ ہے، جس میں وہ رام پور کے وزیر خان کے شاگرد کی حیثیت سے شامل ہوئے۔ علاؤالدین خان کے شاگرد روی شنکر نے وزیر خان کو تان سین کی براہِ راست اولاد کہا۔
علاؤالدین خان نے احمد علی خان کو ایک محفل میں سن کر سرود اپنایا اور ان سے تعلیم پائی، پھر رام پور جا کر وہاں کے درباری موسیقار وزیر خان سے سیکھا، جو بین بجاتے تھے۔ وہ 1972 میں اپنی وفات تک میہر میں مہاراجا برج ناتھ سنگھ کے درباری موسیقار اور معلم رہے۔ دربار ٹرسٹ ایک مضمون میں اس تقرری کو 1918 کا اور اپنے فنکار تعارف میں 1907 کا بتاتا ہے۔ ان کے سنِ پیدائش پر بھی ماخذ مختلف ہیں: بنگلاپیڈیا 1862 بتاتا ہے، دربار ٹرسٹ تقریباً 1862، اور دی ڈیلی اسٹار کا 2012 کا ایک مضمون 1881۔ روی شنکر نے لکھا کہ کسی نے ان کی عمر کا ریکارڈ نہیں رکھا تھا۔ دربار ٹرسٹ کا مضمون ان سے پہلے انیسویں صدی میں میہر کی ایک روایت کا ذکر بھی کرتا ہے، مگر کسی پہلے موسیقار کا نام نہیں لیتا۔
دربار ٹرسٹ کے مطابق علاؤالدین خان کا جھکاؤ دھرپد کی طرف تھا اور وہ سرود، ستار، وائلن اور بانسری میں دھرپد کا انداز لائے۔ بنگلاپیڈیا داہنے ہاتھ کی ضربوں کے نمونے دری دری کو، درا درا کی جگہ، ان سے منسوب کرتا ہے۔ بنگلاپیڈیا ہی درج کرتا ہے کہ ان کے بھائی آیت علی خان نے، جنہوں نے بھی وزیر خان سے تربیت پائی، سرود اور سربہار کو بہتر بنایا۔ علاؤالدین خان نے نئے راگ وضع کیے، اور دی ڈیلی اسٹار ان میں ہیمنت، درگیشوری، میگھ بہار اور پربھات کلی کا نام لیتا ہے۔
علاؤالدین خان کے بیٹے علی اکبر خان (1922-2009) نے بچپن سے اپنے والد سے تربیت پائی اور اس سلسلے کے سب سے نمایاں سرود نواز بنے۔ وہ یہودی مینوہن کی دعوت پر 1955 میں پہلی بار امریکہ گئے، اور کلکتہ میں اور بعد میں کیلیفورنیا میں علی اکبر کالج آف میوزک قائم کیا۔ یہ کالج اپنی روایت کو سینی بابا علاؤالدین گھرانا کہتا ہے اور ہر ساز کو C پر ملاتا ہے۔ آیت علی خان کے بیٹے بہادر خان نے پہلے اپنے والد سے اور پھر میہر میں اپنے چچا سے سرود سیکھا۔ بنگلاپیڈیا، دی ڈیلی اسٹار اور دربار ٹرسٹ، تینوں علاؤالدین خان کے شاگردوں میں شرن رانی کا نام لیتے ہیں۔ علی اکبر خان کے بیٹے آشیش خان، عالم خان اور مانک خان سرود نواز بنے، اور عالم اور مانک اسی کالج میں پڑھاتے ہیں۔
اہم فنکار
- علاؤالدین خان (پیدائش 1862 یا 1881، وفات 1972)، بانی، سرود نواز اور میہر میں معلم
- آیت علی خان (1884-1967)، بانی کے بھائی، جنہوں نے سرود کو بہتر بنایا اور کومیلا اور برہمن باڑیہ میں موسیقی کے کالج قائم کیے
- علی اکبر خان (1922-2009)، سرود، بانی کے بیٹے اور علی اکبر کالج آف میوزک کے بانی
- بہادر خان (بنگلاپیڈیا کے مطابق 1931-1979)، سرود، بانی کے بھتیجے
- شرن رانی، علاؤالدین خان سے تعلیم یافتہ
- آشیش خان، سرود، بانی کے پوتے اور شاگرد
- عالم خان، سرود، علی اکبر خان کے بیٹے اور علی اکبر کالج آف میوزک میں معلم
ماخذ
- Banglapedia, Asiatic Society of Bangladesh، Alauddin Khan، Ayet Ali Khan، Bahadur Hossain Khan اور Ali Akbar Khan پر اندراجات
- Ravi Shankar, My Music, My Life (1968)، علاؤالدین خان پر اقتباس، Vijaya Parrikar Library میں محفوظ
- Darbar Arts Culture Heritage Trust، علاؤالدین خان پر مضمون اور فنکار تعارف
- The Daily Star, Dhaka، علاؤالدین خان پر مضامین (2012)
- Gale, Contemporary Musicians اور Encyclopedia of India، علی اکبر خان پر اندراجات
- Ali Akbar College of Music, San Rafael، About، Our Lineage اور Faculty کے صفحات