Hanif-Khan

حنیف خان

مقام

لندن, سلطنت متحدہ

مہارت

Tabla
حنیف خان کا موسیقی کا سفر والد استاد ہدایت خان کی رہنمائی میں شروع ہوا، جو ہندوستان کے معزز طبلہ نواز تھے۔ وہ دہلی گھرانے کے قاعدہ بجانے کے ماہر ہیں۔ وہ ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کی صورتیں سامعین تک پہنچانے اور 'فیوژن' میں اپنے ہنر سے نئی صورتیں گھڑنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کا موسیقی کا کیریئر انہیں کئی ملکوں تک لے گیا ہے۔ وہ کلاسیکی تربیت یافتہ، منجھے ہوئے ہندوستانی تال نواز ہیں اور کئی اصناف میں سہولت سے بجاتے ہیں۔ انہوں نے ہری پرساد چورسیا، استاد فتح علی خان، غلام علی، غلام مصطفیٰ، پنڈت دیباسیس چکرورتی، پنڈت اجے پرسنا، المصری حسین اور راجن ساجن جیسے نامور فنکاروں کی سنگت کی ہے۔

حنیف خان کے بارے میں

حنیف خان لندن میں مقیم پیشہ ور طبلہ نواز ہیں۔ چھوٹے تھیٹر پروڈکشنز سے لے کر بڑے بین الاقوامی موسیقی میلوں تک، ان کا بجانا ہر اسٹیج میں جان ڈال دیتا ہے۔ شمالی ہندوستان کی روایتی لے پر ان کی گہری گرفت ہے، اور وہ طبلے کی آوازوں کے سارے رنگ مختلف جگہوں تک لے جاتے ہیں: البموں اور فلمی موسیقی کی ریکارڈنگ میں بھی، اور جاز، الیکٹرانک اور ورلڈ فیوژن کے مشترکہ منصوبوں میں بھی۔ ان کا موسیقی کا سفر والد استاد ہدایت خان کی رہنمائی میں شروع ہوا، جو ہندوستان کے معزز طبلہ نواز تھے۔

حنیف خان دہلی گھرانے کے قاعدہ بجانے کے ماہر ہیں۔ وہ ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کی صورتیں سامعین تک پہنچانے اور 'فیوژن' میں اپنے ہنر سے نئی صورتیں گھڑنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کا موسیقی کا کیریئر انہیں کئی ملکوں تک لے گیا ہے۔ وہ کلاسیکی تربیت یافتہ، منجھے ہوئے ہندوستانی تال نواز ہیں اور کئی اصناف میں سہولت سے بجاتے ہیں۔ انہوں نے ہری پرساد چورسیا، استاد فتح علی خان، پنڈت اروند پاریکھ، استاد نشاط خان، غلام علی، رونو مجمدار، غلام مصطفیٰ، المصری حسین، پنڈت دیباسیس چکرورتی، پنڈت اجے پرسنا اور راجن ساجن جیسے نامور فنکاروں کی سنگت کی ہے۔

وہ یورپ، مشرق وسطیٰ اور شمالی امریکہ میں بجا چکے ہیں، اور پورے برطانیہ میں بھی: رائل البرٹ ہال، رائل فیسٹیول ہال، رائل اوپیرا ہاؤس، ایڈنبرا انٹرنیشنل فیسٹیول، گلاسٹنبری اور ووماڈ جیسے معتبر اسٹیجوں پر۔ برطانوی شاہی خاندان کے افراد بھی ان کے سامعین میں رہے ہیں۔

2013 سے وہ ‘دی کائٹ رنر’ کے مستقل طبلہ نواز ہیں۔ نور الحسین فاؤنڈیشن کی نیشنل میوزک کنزرویٹری اور انٹرنیشنل میوزک سینٹر نے انہیں ‘عالمگیریت کے دور میں مقامی موسیقی ورثے کے فروغ’ سے متعلق بین الاقوامی اجلاس میں ان کی خدمات پر اعزاز دیا۔ وہ برطانیہ میں طلبہ کو طبلہ بھی سکھاتے ہیں۔

استاد کی حیثیت سے حنیف تال سے اپنا لگاؤ انفرادی کلاسوں، گروپ ورکشاپس اور ماسٹر کلاسوں میں بانٹتے ہیں، اور ہر سطح کے طلبہ کو تکنیک کی صفائی کے ساتھ کھل کر بجانا سکھاتے ہیں۔ کلاسیکی گائیکوں اور رقاصوں کی سنگت ہو یا تجرباتی گروپوں کے ساتھ بجانا، وہ دونوں میں یکساں سہولت محسوس کرتے ہیں۔ برطانیہ اور دوسرے ملکوں میں نئے تجربے کرتے ہوئے وہ طبلے کے فن کو محفوظ رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔