بنارس گھرانا ہندوستانی موسیقی میں طبلہ نوازی کا ایک گھرانا ہے، جس کا نام بنارس (وارانسی) سے آیا ہے، جہاں رام سہائے نے اٹھارویں صدی کے آخر یا انیسویں صدی میں اس کی بنیاد رکھی۔ اسے بنارس (Banaras) یا وارانسی گھرانا بھی کہتے ہیں، اور اس کے انداز کو بنارس باج یا بنارسی باج۔ یہی نام گلوکاری اور کتھک کی الگ روایات کے لیے بھی آتا ہے۔ لکھنؤ اور فرخ آباد کے ساتھ بنارس بھی پورب باج میں شامل ہے، یعنی طبلے کا مشرقی انداز۔

روایت رام سہائے کا زمانہ 1780 سے 1826 تک بتاتی ہے۔ ڈجی طبلہ، رابرٹ گوٹلیب کے حوالے سے، ان کی تاریخوں پر بڑے اختلاف کا ذکر کرتا ہے اور ان کی پیدائش 1830 کے آس پاس یا اس سے پہلے رکھتا ہے۔ یہ گھرانا لکھنؤ سے نکلا ہے: گھرانے کی روایات کے مطابق رام سہائے نو برس کی عمر میں مودھو خان سے سیکھنے وہاں گئے، اگرچہ لکھنؤ کے کچھ طبلہ نواز مودھو خان کی تاریخوں سے اختلاف کرتے ہیں۔ انیش پردھان کے مطابق یہ معلم مکھو خان تھے۔ گھرانے کی روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ رام سہائے نے نواب وزیر علی خان کے سامنے سات راتوں تک محفل جمائی، اور پھر نیا انداز ڈھالنے کے لیے بنارس میں چھ مہینے گوشہ نشینی اختیار کی۔

سلسلے کی روایات کے مطابق رام سہائے ایسا انداز چاہتے تھے جو سولو بھی سنبھال سکے اور خیال، سازوں کی موسیقی، دھرپد اور کتھک کی سنگت بھی کر سکے۔ اس کی آواز طاقتور اور کھلی ہے، جو نا اور دِن جیسے گونج دار بولوں پر استوار ہے، اگرچہ طبلہ نواز ہلکا ہاتھ بھی استعمال کرتے ہیں۔ وہ تیٹے جیسے پورے ہاتھ کے بول پسند کرتے ہیں، اور ڈجی طبلہ کو بنارس میں لکھنؤ کی نسبت پکھاوج کا اثر زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ سلسلے کی روایات رام سہائے کو خمیدہ انگوٹھی والی انگلی سے بجنے والے اس نا کا موجد مانتی ہیں جس سے داہنا، یعنی دائیں ہاتھ کا طبلہ، گونج اٹھتا ہے، اور اٹھان، یعنی آغاز کی بندش، بنارسی ٹھیکا، یعنی تال کے بولوں کا بنیادی ڈھانچہ، اور فرد، یعنی ایک مقررہ بندش، کا بھی۔ بنارس کا سولو فی البدیہہ تمہید اور اٹھان سے شروع ہوتا ہے، اور ٹکڑا اور پرن، یعنی چھوٹی اور بڑی مقررہ بندشوں، پر ختم ہوتا ہے۔

رام سہائے کے بھائی یا بہن کے بیٹے بھیرو سہائے (1815 تا 1894) نے خاندانی سلسلہ اپنے بیٹے بلدیو سہائے (1856 تا 1906) کو سونپا۔ سلسلے کے شجرے تعلیم کا ایک دوسرا سلسلہ بھی دکھاتے ہیں جو شاگردی کی کڑیوں میں رام سہائے سے بھگت جی تک، پھر بھیرو پرساد مشرا تک اور ان سے انوکھے لال مشرا تک پہنچتا ہے، جن کی پہچان صفائی اور رفتار ہے۔ بلدیو سہائے کے شاگرد کنٹھے مہاراج نے اپنے بھائی یا بہن کے بیٹے کشن مہاراج کو سکھایا۔ دونوں حضرات نے کتھک کے رقاصوں اور ساز نوازوں کی سنگت کی۔ بانی کی براہِ راست اولاد شاردا سہائے نے بنارس میں رام سہائے کے نام پر ایک اسکول قائم کیا۔ 1987 میں انہوں نے اور فرانسس شیپرڈ نے اسے برطانیہ میں ایک خیراتی ٹرسٹ کے طور پر رجسٹر کرایا۔

اہم فنکار

  • رام سہائے، بانی، روایتی تاریخیں 1780 تا 1826
  • بلدیو سہائے، 1856 تا 1906، کنٹھے مہاراج کے گرو
  • کنٹھے مہاراج، 1880 تا 1969 یا 1970، سنگت کار اور کشن مہاراج کے گرو
  • انوکھے لال مشرا، 1914 تا 1958، سولو نواز جن کی پہچان صفائی اور رفتار ہے
  • سامتا پرساد (گدئی مہاراج)، پیدائش 1921، وفات 1994 (بعض ماخذ 1995 یا 1999 بتاتے ہیں)، سولو نواز اور سنگت کار، پدم بھوشن 1991
  • کشن مہاراج، 1923 تا 2008، سولو نواز اور سنگت کار، پدم شری 1973 اور پدم وبھوشن 2002
  • شاردا سہائے، 1935 تا 2011، رام سہائے کی اولاد اور بنارس اور برطانیہ میں معلم

ماخذ

  • Shawn Mativetsky, Benares gharana اور The Art of Tabla Solo in the Benares Gharana، دو ویب مضامین (بلا تاریخ)
  • DigiTabla, The Six Major Gharanas and Baj، بحوالہ Robert S. Gottlieb (1993) اور James Kippen (1988)
  • Aneesh Pradhan، Scroll.in، طبلے کے بنارس انداز پر (2016) اور گرجا دیوی پر (2017)
  • Gazette of India، پدم ایوارڈز کے اعلامیے (1973، 1991، 2002)
  • PRSSV Institute of Performing Arts and Heritage، ہوم اور بانیوں کے صفحات (بلا تاریخ)
  • The Tribune (2008)، کشن مہاراج پر Shahira Naim کی رپورٹ اور Shovana Narayan کا خراجِ عقیدت