فرخ آباد گھرانا شمالی ہندوستانی طبلے کا ایک گھرانا ہے جو اٹھارویں یا انیسویں صدی میں حاجی ولایت علی خان کے گرد تشکیل پایا، جو لکھنؤ گھرانے کے بخشو خان کے شاگرد تھے۔ اس کا نام موجودہ اتر پردیش کے قصبے فرخ آباد سے آیا ہے۔ یہ ان چھ طبلہ گھرانوں میں شامل ہے جن کا نام زیادہ تر مصنفین لیتے ہیں، اور باقی پانچ دہلی، اجراڑہ، لکھنؤ، بنارس اور پنجاب ہیں۔ ماخذ اسے Farukhabad یا Farukkhabad بھی لکھتے ہیں۔

ولایت علی بعد میں بخشو خان کے داماد بھی بنے۔ 2022 میں ناد نرتن جریدے میں نکھل بھگت کی تحریر اور طبلہ نواز اور مؤرخ انیش پردھان کی تحریریں، دونوں میں آغاز کی کوئی تاریخ نہیں ملتی، اور عام حوالے اٹھارویں صدی کے آغاز سے انیسویں صدی تک کی بات کرتے ہیں۔ بھگت کے مطابق ولایت علی بانی ہیں اور فرخ آباد لکھنؤ کی ایک شاخ ہے جس کی بنیاد پورب باج پر ہے، یعنی کھلی اور گونج دار ضربوں والا مشرقی انداز۔

طبلہ نواز کنار (کنارہ) اور لَو یا سُر، یعنی دائیں طبلے کی پوڑی کے درمیانی حصے، دونوں پر ضرب لگاتے ہیں، تاکہ پورب کی گونج دار ضربیں دہلی باج کی بند انگلیوں والی ضربوں سے مل جائیں۔ پردھان کے نزدیک فرخ آباد ایک کھلا، یعنی کھلا ہوا، باج ہے جس کی بندشیں بند اور کھلے اسالیب کے درمیان پل کا کام کرتی ہیں۔ گتیں، یعنی مقررہ بندشیں، اس کے ذخیرے کا مرکز ہیں، جس میں گت کی کئی قسمیں ہیں، اور ان کے ساتھ پرنیں، یعنی پکھاوج کے انداز کی بندشیں، اور چلن بھی ہیں۔ بھگت کے مطابق ابتدائی طبلہ نواز گت توڑے کھلے ہاتھ سے بجاتے تھے، اور پیشکار اور قاعدہ بعد میں ذخیرے میں داخل ہوئے۔ احمد جان تھرکوا نے فرخ آباد کے بجانے کو ‘خالص طبلہ’ کہا، جس میں نقارے اور ڈھول کی آوازیں نہیں۔

منیر خان نسب کے لحاظ سے اس گھرانے سے تھے، مگر انہوں نے مختلف گھرانوں کے بہت سے گروؤں سے تربیت پائی، اور ان کے شاگرد للیانہ گھرانا کہلائے، یا بمبئی میں ان کی تدریس کے برسوں کی وجہ سے بمبئی گھرانا۔ ان کے بھانجے امیر حسین خان ان کے بعد خلیفہ بنے اور اس انداز کو مہاراشٹر بھر میں پھیلایا۔ بھگت کو ان کے قاعدوں اور ریلوں میں دہلی کی زبان اور فرخ آباد کی فی البدیہہ اپج سنائی دیتی ہے۔ اروند مولگاؤنکر اور نکھل گھوش نے ان سے سیکھا۔ ایک دوسرا سلسلہ مسیت خان سے چلتا ہے، جنہوں نے گیان پرکاش گھوش کو سکھایا۔ انندو چیٹرجی نے تین دہائیوں تک گیان پرکاش گھوش سے اس گھرانے کی زبان و قواعد سیکھے۔ بانی کی براہِ راست اولاد کرامت اللہ خان نے رابرٹ گوٹلیب کے 1977 کے طبلہ جائزے میں فرخ آباد کی نمائندگی کی۔

اہم فنکار

  • حاجی ولایت علی خان، بانی، تاریخیں متنازع
  • منیر خان، خلیفہ اور للیانہ شاخ کا سرچشمہ، 1863 تا 1937
  • امیر حسین خان، منیر خان کے بعد خلیفہ، بندش ساز اور معلم
  • احمد جان تھرکوا، منیر خان کے شاگرد اور رام پور کے درباری موسیقار، 1891 یا 1892 تا 1976
  • مسیت خان، گیان پرکاش گھوش کے گرو
  • کرامت اللہ خان، بانی کے سلسلے میں بیسویں صدی کے نمایاں طبلہ نواز
  • گیان پرکاش گھوش، نکھل گھوش اور انندو چیٹرجی کو سکھایا، پنجاب گھرانے میں بھی تربیت پائی
  • نکھل گھوش، 1956 میں ممبئی میں سنگیت مہابھارتی کی بنیاد رکھی، 1918 تا 1995

ماخذ

  • Nikhil Bhagat، امیر حسین خان پر مقالہ، Naad-Nartan Journal of Dance and Music, vol. 10, issue 1 (2022)
  • Aneesh Pradhan، فرخ آباد گھرانے اور منیر خان پر کالم، Scroll (2016)
  • Robert S. Gottlieb, The Major Traditions of North Indian Tabla Drumming (1977)
  • Susheela Mishra، احمد جان تھرکوا پر یادداشت، Vijaya Parrikar Library
  • Sangit Mahabharati, Mumbai، اپنے بانی نکھل گھوش کی سوانح
  • Darbar Arts Culture Heritage Trust، احمد جان تھرکوا اور انندو چیٹرجی کے تعارف